مرزا اسداللہ غالب
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزی ِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سواۓ بادۂ ِ گلفامِ مشک بو کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
دیکھ خوں نا بہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری
ہوں ز خود رفتۂ بیداۓ خیال
بھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرا
رک گیا دیکھ روانی میری
قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں
سخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد بادِ رہِ بے تابی ہوں
صرصرِ شوق ہے بانی میری
دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
کھل گئی ہیچ مدانی میری
کر دیا ضعف نے عاجز غالب
ننگِ پیری ہے جوانی میری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے
یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر
جاۓ مے ، اپنے کو کھینچا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے
چاک مت کر جیب ، بے ایامِ گُل
کُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بیگانگی
منہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دُشمنی نے میری ، کھویا غیر کو
کِس قدر دُشمن ہے ، دیکھا چاہیے
اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعی
یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نااُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے
غافل ، اِن مہ طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
چاہتے ہیں خُوبرویوں کو اسد
آپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے ، بیاباں مجھ سے
درسِ عنوانِ تماشا ، بہ تغافلِ خُوشتر
ہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
وحشتِ آتشِ دل سے ، شبِ تنہائی میں
صورتِ دُود ، رہا سایہ گُریزاں مجھ سے
غمِ عشاق نہ ہو ، سادگی آموزِ بُتاں
کِس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
اثرِ آبلہ سے جادۂ صحراۓ جُنوں
صُورتِ رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
بیخودی بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جو
پُر ہے سایے کی طرح ، میرا شبستاں مجھ سے
شوقِ دیدار میں ، گر تُو مجھے گردن مارے
ہو نگہ ، مثلِ گُلِ شمع ، پریشاں مجھ سے
بیکسی ہاۓ شبِ ہجر کی وحشت ، ہے ہے
سایہ خُورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں ، تجھ سے
آئینہ دارئ یک دیدۂ حیراں ، مُجھ سے
نگہِ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے ، اسد
ہے چراغاں ، خس و خاشاکِ گُلستاں مجھ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بُلاتا تو ہوں اُس کو ، مگر اے جذبۂ دل
اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے
کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے ، بھول نہ جائے
کاش یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
کوئی پُوچھے کہ یہ کیا ہے ، تو چُھپائے نہ بنے
اِس نزاکت کا بُرا ہو ، وہ بھلے ہیں ، تو کیا
ہاتھ آویں ، تو اُنھیں ہاتھ لگائے نہ بنے
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُٹھائے نہ بنے
موت کی راہ نہ دیکھوں ؟ کہ بِن آئے نہ رہے
تم کو چاہوں کہ نہ آؤ ، تو بُلائے نہ بنے
بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اُٹھائے نہ اُٹھے
کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
عشق پر زور نہیں ، ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بُجھائے نہ بنے
Monday, December 28, 2009
Saturday, December 26, 2009
حمد باری تعالٰی
حمدِ باری تعالٰی
قیصرنجفی
رونقِ روئے حرف ہےحسن خیال کے سبب
حسنِ خیال ہے ترے ذکر جمال کے سبب
جز تیرے کائنات میں ہے ایسا مہرباں کہاں
پیش آئے التفات سے جو عرضِ حال کے سبب
یہ وحش و طیر اے خدا،ہیں سچے مدح خواں ترے
کرتے نہیں ثنا تری اپنے کمال کے سبب
چاہے جو تو تو ذرے سے پھوٹیں شعاعیں مہر کی
کیا کیا بغاوتیں نہ تھیں کیا رعونتیں نہ تھیں
آ پ اپنی موت مر گئیں تیرے جلال کے سبب
کرتا ہوں بے زبانی کی میں تو زباں میں حمدِ رب
قیصر زبان گنگ ہے رنج و ملال کے سبب
قیصرنجفی
رونقِ روئے حرف ہےحسن خیال کے سبب
حسنِ خیال ہے ترے ذکر جمال کے سبب
جز تیرے کائنات میں ہے ایسا مہرباں کہاں
پیش آئے التفات سے جو عرضِ حال کے سبب
یہ وحش و طیر اے خدا،ہیں سچے مدح خواں ترے
کرتے نہیں ثنا تری اپنے کمال کے سبب
چاہے جو تو تو ذرے سے پھوٹیں شعاعیں مہر کی
کیا کیا بغاوتیں نہ تھیں کیا رعونتیں نہ تھیں
آ پ اپنی موت مر گئیں تیرے جلال کے سبب
کرتا ہوں بے زبانی کی میں تو زباں میں حمدِ رب
قیصر زبان گنگ ہے رنج و ملال کے سبب
Monday, December 21, 2009
Sunday, December 20, 2009
اردو منزل کل امارات مشاعرہ
اردو منزل کل امارات مشاعرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان سو شیل سنٹر شارجہ میں اردو منزل کل امارات مشاعرہ بیادِ قائد ِاعظم مھمد علی جناح ، بتاریخ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ ، شام ۶ بجے ۔ ، تعاون پاکستان سو شیل سنٹر شارجہ ۔
صبیحہ صبا ، صغیر احمد جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ALL UAE URDU MANZIL MUSHAIRAH in PAKISTAN SOCIAL CENTRE SHARJAH in connection with the BIRTH ANNIVERSARY of the QUAID E AZAM MOHAMMED ALI JINNAH , FOUNDER of PAKISTAN , on 31 st. December , 2009 at 6 pm.
Cooperation : Pakistan Social Centre Sharjah.
Contact : Sabiha Saba & Saghier Ahmed Jafri
saghierjafri@urdumanzil.com , sabihasaba@urdumanzil.com
Tel. 00971 50 4454036
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان سو شیل سنٹر شارجہ میں اردو منزل کل امارات مشاعرہ بیادِ قائد ِاعظم مھمد علی جناح ، بتاریخ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ ، شام ۶ بجے ۔ ، تعاون پاکستان سو شیل سنٹر شارجہ ۔
صبیحہ صبا ، صغیر احمد جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ALL UAE URDU MANZIL MUSHAIRAH in PAKISTAN SOCIAL CENTRE SHARJAH in connection with the BIRTH ANNIVERSARY of the QUAID E AZAM MOHAMMED ALI JINNAH , FOUNDER of PAKISTAN , on 31 st. December , 2009 at 6 pm.
Cooperation : Pakistan Social Centre Sharjah.
Contact : Sabiha Saba & Saghier Ahmed Jafri
saghierjafri@urdumanzil.com , sabihasaba@urdumanzil.com
Tel. 00971 50 4454036
Friday, December 4, 2009
Monday, November 30, 2009
دبئی میں ایک بھرپور ادبی نشست ، صبیحہ صبا
دبئی میں ایک بھرپور ادبی نشست
صبیحہ صبا
مشاعرے اورادبی محفلیں ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی اردوبولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں ایسی ان گنت تقریبات کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔جس میں ہم خیال و ہم مزاج اور صاحبان ذوق خواتین و حضرات مل بیٹھتے ہیںاور ذہنی آسودگی کے کچھ لمحات اس تیزی سے گزرتی ہوئی دنیا سے بچا کر اپنے لئے محفوظ کر لیتے ہیں۔ایک بہت اچھی اورخوشگوار نشست کا اہتمام محبوب اختر غوری نے پرنسس ہوٹل میں کیا۔محبوب اختر غوری کا نام کراچی میں ہونے والے بڑے عالمی مشاعروں کے اہم اورگنائزرمیں لیا جاتا رہا ہے دبئی میں وہ اپنے بزنس کو کامیابی سے چلا رہے ہیںادب سے لگاؤ اور اردو سے محبت کا اظہار وہ اپنی گفتگو میں کرتے رہے۔اس نشست کا اہتمام رضوان ممتاز کے اعزاز میں کیا گیا تھا جو بحرین میں کئی ادبی تنظیموں کے سرپرست ہیں۔بحرین میں مشاعرہ اورگنائز کرنے کے سلسلے میں ان کانام بہت اہم ہے۔ثروت زہرا نے مشاعرے کی نظامت کی۔مریم فاطمہ نے تلاوت کی۔حمدباری تعالیٰ کی سعادت سید صغیراحمد جعفری کے حصےّ میں آئی۔ثروت زہرا نے نعتیہ نظم معراج رسول پیش کی اور اپنا کلام سنایا
ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو
آگہی ڈھائے گئی ہے مجھ کو
میرے ادراک کی مجبوری سے
بات بہلائے گئی ہے مجھ کو
عبدالستار شیفتہ
بڑے سلیقے سے دیتے رہے فریب مگر
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے رہے
سید طالب حسین شاہ
موقع اسے کوئی بھی ہوا نے نہیں دیا
بجھنے مگر چراغ خدا نے نہیں دیا
سحر تاب رومانی
چل رہے تھے جس طرف ہم
اس طرف رستہ نہیں تھا
بات دل کی تھی دل سے ہو جاتی
بیچ میں تم دماغ لے آئے
حریم حیدر
اپنی باتوں کے حسیں پھول کھلاتے رہنا
اب ملے ہو تو یونہی ملتے ملاتے رہنا
اپنا پیمان ِوفا یاد ہمیشہ رکھنا
اب میرا کام نہیں یاد دلاتے رہنا
تسنیم عابدی
ہم سے آشفتہ مزاجوں کا پتہ پوچھتی ہے
کتنے باقی ہیں دئیے روز ہوا پوچھتی ہے
میکدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والے
آنکھ کو ساغر و مینا کبھی ہونے نہ دیا
مصدق لاکھانی
:۔ میری اڑان ناپنے والوں سے یہ کہو
میں آسماں کے وسط میں بے بال وپر بھی تھا
یوں تو بہت ہوئی تری چوکھٹ کی گفتگو
لیکن خطا معاف وہاں میرا سر بھی تھا
صغیر جعفری
پھر وہی حاصل سفر نکلا
جس پہ پہنچا وہ تیرا در نکلا
ہائے وہ دن کہ دھوپ اوڑھی تھی
پھر کہاں چھاؤں میں یہ سر نکلا
صبیحہ صبا
دل میں خاموش سا بیٹھا ہے خزانوں کی طرح
گونجتا ہے کوئی معبد میں اذانوں کی طرح
خیر کی فصل اگا کر اسے پکنے کے لئے
اک توکل پہ میں چھوڑوں ہوں کسانوں کی طرح
محبوب اختر غوری نے رضوان ممتاز اورشاعروں کا شکریہ ادا کیا اور اردو کے لئے اپنی خدمات کا تذکرہ کیا اورممتازشعراء کے بے شمار اشعار سنائے۔رضوان ممتاز نے اس تقریب ِپذیرائی پر میزبان کا شکریہ ادا کیا
صبیحہ صبا
مشاعرے اورادبی محفلیں ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی اردوبولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں ایسی ان گنت تقریبات کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔جس میں ہم خیال و ہم مزاج اور صاحبان ذوق خواتین و حضرات مل بیٹھتے ہیںاور ذہنی آسودگی کے کچھ لمحات اس تیزی سے گزرتی ہوئی دنیا سے بچا کر اپنے لئے محفوظ کر لیتے ہیں۔ایک بہت اچھی اورخوشگوار نشست کا اہتمام محبوب اختر غوری نے پرنسس ہوٹل میں کیا۔محبوب اختر غوری کا نام کراچی میں ہونے والے بڑے عالمی مشاعروں کے اہم اورگنائزرمیں لیا جاتا رہا ہے دبئی میں وہ اپنے بزنس کو کامیابی سے چلا رہے ہیںادب سے لگاؤ اور اردو سے محبت کا اظہار وہ اپنی گفتگو میں کرتے رہے۔اس نشست کا اہتمام رضوان ممتاز کے اعزاز میں کیا گیا تھا جو بحرین میں کئی ادبی تنظیموں کے سرپرست ہیں۔بحرین میں مشاعرہ اورگنائز کرنے کے سلسلے میں ان کانام بہت اہم ہے۔ثروت زہرا نے مشاعرے کی نظامت کی۔مریم فاطمہ نے تلاوت کی۔حمدباری تعالیٰ کی سعادت سید صغیراحمد جعفری کے حصےّ میں آئی۔ثروت زہرا نے نعتیہ نظم معراج رسول پیش کی اور اپنا کلام سنایا
ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو
آگہی ڈھائے گئی ہے مجھ کو
میرے ادراک کی مجبوری سے
بات بہلائے گئی ہے مجھ کو
عبدالستار شیفتہ
بڑے سلیقے سے دیتے رہے فریب مگر
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے رہے
سید طالب حسین شاہ
موقع اسے کوئی بھی ہوا نے نہیں دیا
بجھنے مگر چراغ خدا نے نہیں دیا
سحر تاب رومانی
چل رہے تھے جس طرف ہم
اس طرف رستہ نہیں تھا
بات دل کی تھی دل سے ہو جاتی
بیچ میں تم دماغ لے آئے
حریم حیدر
اپنی باتوں کے حسیں پھول کھلاتے رہنا
اب ملے ہو تو یونہی ملتے ملاتے رہنا
اپنا پیمان ِوفا یاد ہمیشہ رکھنا
اب میرا کام نہیں یاد دلاتے رہنا
تسنیم عابدی
ہم سے آشفتہ مزاجوں کا پتہ پوچھتی ہے
کتنے باقی ہیں دئیے روز ہوا پوچھتی ہے
میکدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والے
آنکھ کو ساغر و مینا کبھی ہونے نہ دیا
مصدق لاکھانی
:۔ میری اڑان ناپنے والوں سے یہ کہو
میں آسماں کے وسط میں بے بال وپر بھی تھا
یوں تو بہت ہوئی تری چوکھٹ کی گفتگو
لیکن خطا معاف وہاں میرا سر بھی تھا
صغیر جعفری
پھر وہی حاصل سفر نکلا
جس پہ پہنچا وہ تیرا در نکلا
ہائے وہ دن کہ دھوپ اوڑھی تھی
پھر کہاں چھاؤں میں یہ سر نکلا
صبیحہ صبا
دل میں خاموش سا بیٹھا ہے خزانوں کی طرح
گونجتا ہے کوئی معبد میں اذانوں کی طرح
خیر کی فصل اگا کر اسے پکنے کے لئے
اک توکل پہ میں چھوڑوں ہوں کسانوں کی طرح
محبوب اختر غوری نے رضوان ممتاز اورشاعروں کا شکریہ ادا کیا اور اردو کے لئے اپنی خدمات کا تذکرہ کیا اورممتازشعراء کے بے شمار اشعار سنائے۔رضوان ممتاز نے اس تقریب ِپذیرائی پر میزبان کا شکریہ ادا کیا
ادبی خبریں
ادبی خبریں
رپورٹ: میم شین کامل، الخبر، سعودی عرب
(1)
معروف شاعر محترم سہیل ثاقب نےیوم اقبال کی نسبت سے ایک نثری مزاکرے کا اہتمام کیا جسکی صدارت معروف شاعر اور ادیب طارق محمود طارق نے کی؛ محترم نعیم جاوید، محترم ایوب صابر؛ جناب افضل خان اور طارق محمود طارق نے علامہ اقبال کی شخصیت پر اپنے اپنے مقالات پیش کءے۔ جبکہ سہیل؛ اقبال احمد قمر اور فقیر فیصل آبادی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔
(2)
محترمہ قدسیہ ندیم لالی کی مزاحیہ خاکوں پر مشتمل کتاب (مسکراہٹوں کی اوٹ سے) کوابو ظفر زین ایوارڈ سال ۲۰۰۹ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اس ایواڈ کا ہر سال اجرا ممتاز مزاحیہ شاعر محترم شوکت جمال کرتے ہیں۔ انٹیلیکچول فورم کی طرف سے محترمہ کو اس پرمسرت موقع پر مبارک باد پیش کی گءی۔
(3)
معروف مزاح نگار اور شاعر ڈاکٹر عابد علی عابد کی مزاحیہ خاکوں پر مبنی کتاب (گستاخیاں) منظر عام پر آگءی ہے۔ الخبر کے ادبی حلقوں نے اس کے بے حد پزیراءی کی ہے۔
رپورٹ: میم شین کامل، الخبر، سعودی عرب
(1)
معروف شاعر محترم سہیل ثاقب نےیوم اقبال کی نسبت سے ایک نثری مزاکرے کا اہتمام کیا جسکی صدارت معروف شاعر اور ادیب طارق محمود طارق نے کی؛ محترم نعیم جاوید، محترم ایوب صابر؛ جناب افضل خان اور طارق محمود طارق نے علامہ اقبال کی شخصیت پر اپنے اپنے مقالات پیش کءے۔ جبکہ سہیل؛ اقبال احمد قمر اور فقیر فیصل آبادی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔
(2)
محترمہ قدسیہ ندیم لالی کی مزاحیہ خاکوں پر مشتمل کتاب (مسکراہٹوں کی اوٹ سے) کوابو ظفر زین ایوارڈ سال ۲۰۰۹ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اس ایواڈ کا ہر سال اجرا ممتاز مزاحیہ شاعر محترم شوکت جمال کرتے ہیں۔ انٹیلیکچول فورم کی طرف سے محترمہ کو اس پرمسرت موقع پر مبارک باد پیش کی گءی۔
(3)
معروف مزاح نگار اور شاعر ڈاکٹر عابد علی عابد کی مزاحیہ خاکوں پر مبنی کتاب (گستاخیاں) منظر عام پر آگءی ہے۔ الخبر کے ادبی حلقوں نے اس کے بے حد پزیراءی کی ہے۔
حمد باری تعالٰی
د کھادے پھر سے اپنا گھر دکھا دے
مرا سر صحن ِ کعبہ میں جھکا دے
حرم میں مرے سجدے ان گنت ہوں
جبیں کو روشنی سے جگمگا دے
در ِ اقد س پہ ایسی حاضری ہو
دیار ِ دل کو اک کعبہ بنا دے
ترا کعبہ مری چاہت کا مرکز
مری آنکھوں میں یہ کعبہ بسا دے
ترا ہی نام لے کر نیند آ ئے
مجھے اس خواب ِ غفلت سے جگا دے
یہ سارے بت جو ہیں حر ص و ہوس کے
مرے مولا یہ سارے بت گرا دے
ترے د ر سے تری رحمت سمیٹوں
فقط اپنا مجھے تو آسرا دے
کوئی بخشش کا ہو جائے اشارہ
گناہوں کو مرے مولا مٹا دے
صغیر احمد جعفری
مرا سر صحن ِ کعبہ میں جھکا دے
حرم میں مرے سجدے ان گنت ہوں
جبیں کو روشنی سے جگمگا دے
در ِ اقد س پہ ایسی حاضری ہو
دیار ِ دل کو اک کعبہ بنا دے
ترا کعبہ مری چاہت کا مرکز
مری آنکھوں میں یہ کعبہ بسا دے
ترا ہی نام لے کر نیند آ ئے
مجھے اس خواب ِ غفلت سے جگا دے
یہ سارے بت جو ہیں حر ص و ہوس کے
مرے مولا یہ سارے بت گرا دے
ترے د ر سے تری رحمت سمیٹوں
فقط اپنا مجھے تو آسرا دے
کوئی بخشش کا ہو جائے اشارہ
گناہوں کو مرے مولا مٹا دے
صغیر احمد جعفری
Sunday, November 29, 2009
پاکستانیوں نے عید کی شام ساحلِ سمندر پر منائی
تحریر۔ ۔صبیحہ صبا
عید کے بعد بھی ہیں دیس میں باسی عیدیں
اور پردیس میں دیتی ہیں اداسی عیدیں
یہ میرا ایک پرانا شعر ہے ۔جس میں میں نے پردیس میں رہنے والوں کی اداسیوں کا ذکر کیا ہے لیکن اب میرا خیال ہے کہ پاکستان کے زندہ دل لوگ جہاں چاہیں اور جب چاہیں پردیس میں بھی عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔عید کی شام پاکستانی کلباء کے کورنش پرجمع ہوئے اور اپنے احباب سے عید مل کر خوشی مناتے رہے۔عید الاضحٰی ایثاروقربانی کا نام ہے پورا دن پاکستانی اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میںمصروف رہے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے بعد شام کا وقت ان خاندانوں نے اپنے بچوں اورا حباب کے ساتھ گزارا۔امارات کے سجے سجائے خوبصورت اور دلکش ساحل پکنک منانے کے لئے بہترین تصور کئے جاتے ہیں۔بچے اور نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ دور تک پھیلے ہوئے ساحل پرخوش گپیوں میںمصروف رہے کچھ بچے اپنے ساتھ فٹ بال اور سائیکلیں لائے تھے۔خواتین نے اپنے پسندیدہ اشعار سنائے پھر صبیحہ صبا اور صغیر جعفری سے ان کی شاعری سنی گئی۔ایک خوش گوار ماحول میں دیر تک یہ فیملیز ساحل پر موجود رہیں۔ایک اہم بات یہ کہ امارات کی شمالی ریاستوں میں پاکستانیوں کے لئے کوئی مناسب جگہ موجود نہیں ہے جہاں وہ مل بیٹھیں اوراپنی تقریبات منعقد کر سکیںخاص طور پاکستانی اور امارات کے قومی دنوں کا منا سکیں ۔صغیر احمد جعفری نے حاضرین کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ یہاں بھی ایمبیسی کے تعاون سے پاکستانیوں کے لئے مناسب جگہ فراہم کی جانی چاہیے ۔ چاہے ایمبیسی فوری طور پر کرا ئے پر حاصل کرے جہاں پاکستانی اپنی سوشل ثقافتی اور ادبی تقریبات منعقد کرسکیںاوراپنی طرف سے پاکستان اور امارات کے قومی دنوں کو منا کر اظہار یک جہتی کر سکیں۔ تمام پاکستانیوں نے صغیر جعفری کی اس تجویز کی تائید کی ۔امید ہے اس تجویز پر متعلقہ افراد توجہ فرمائیں گے۔کیونکہ انسان کو اپنے جذبوں کے اظہار کے لئے مناسب موقع ملنا چاہیے۔ عید ملن پارٹی کو سب نے پسند کیا۔تقریب کا اہتمام مسٹر اور مسزامتیازاحمد،مسٹر اور مسزسید مکرم علی مجاہداور مسٹراور مسز کیپٹن نوید آزادنے کیا۔ممتاز پاکستانیوں نے ایک جگہ جمع ہو کر عید کی خوشیوں کو دوبالا کیا
تحریر۔ ۔صبیحہ صبا
عید کے بعد بھی ہیں دیس میں باسی عیدیں
اور پردیس میں دیتی ہیں اداسی عیدیں
یہ میرا ایک پرانا شعر ہے ۔جس میں میں نے پردیس میں رہنے والوں کی اداسیوں کا ذکر کیا ہے لیکن اب میرا خیال ہے کہ پاکستان کے زندہ دل لوگ جہاں چاہیں اور جب چاہیں پردیس میں بھی عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔عید کی شام پاکستانی کلباء کے کورنش پرجمع ہوئے اور اپنے احباب سے عید مل کر خوشی مناتے رہے۔عید الاضحٰی ایثاروقربانی کا نام ہے پورا دن پاکستانی اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میںمصروف رہے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے بعد شام کا وقت ان خاندانوں نے اپنے بچوں اورا حباب کے ساتھ گزارا۔امارات کے سجے سجائے خوبصورت اور دلکش ساحل پکنک منانے کے لئے بہترین تصور کئے جاتے ہیں۔بچے اور نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ دور تک پھیلے ہوئے ساحل پرخوش گپیوں میںمصروف رہے کچھ بچے اپنے ساتھ فٹ بال اور سائیکلیں لائے تھے۔خواتین نے اپنے پسندیدہ اشعار سنائے پھر صبیحہ صبا اور صغیر جعفری سے ان کی شاعری سنی گئی۔ایک خوش گوار ماحول میں دیر تک یہ فیملیز ساحل پر موجود رہیں۔ایک اہم بات یہ کہ امارات کی شمالی ریاستوں میں پاکستانیوں کے لئے کوئی مناسب جگہ موجود نہیں ہے جہاں وہ مل بیٹھیں اوراپنی تقریبات منعقد کر سکیںخاص طور پاکستانی اور امارات کے قومی دنوں کا منا سکیں ۔صغیر احمد جعفری نے حاضرین کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ یہاں بھی ایمبیسی کے تعاون سے پاکستانیوں کے لئے مناسب جگہ فراہم کی جانی چاہیے ۔ چاہے ایمبیسی فوری طور پر کرا ئے پر حاصل کرے جہاں پاکستانی اپنی سوشل ثقافتی اور ادبی تقریبات منعقد کرسکیںاوراپنی طرف سے پاکستان اور امارات کے قومی دنوں کو منا کر اظہار یک جہتی کر سکیں۔ تمام پاکستانیوں نے صغیر جعفری کی اس تجویز کی تائید کی ۔امید ہے اس تجویز پر متعلقہ افراد توجہ فرمائیں گے۔کیونکہ انسان کو اپنے جذبوں کے اظہار کے لئے مناسب موقع ملنا چاہیے۔ عید ملن پارٹی کو سب نے پسند کیا۔تقریب کا اہتمام مسٹر اور مسزامتیازاحمد،مسٹر اور مسزسید مکرم علی مجاہداور مسٹراور مسز کیپٹن نوید آزادنے کیا۔ممتاز پاکستانیوں نے ایک جگہ جمع ہو کر عید کی خوشیوں کو دوبالا کیا
Friday, November 27, 2009
ایوب خاور
ایوب خاور
جس طرح وادیِ پُر خار میں آہو نکل آئے
ہا تھ میں ہاتھ لئے تیرے خد وخال کے ساتھ
جانے کب آئینہِ جاں سے لبِ جو نکل آئے
دل کی چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہےتنہائی کا چاند
اور اچانک کسی جانب سے اگر تو نکل آئے
برف کے ریزوں کی صورت جو نظر آتے ہیں داغ
یہ تیرے ہجر کےدکھ ہیں جو سر مو نکل آئے
وہ جو بے شاخ شجر تھے ترے رستے کا غبار
تو نظر آیا توہر ایک کے بازو نکل آئے
تو نہیں تھا تو یہ دل اپنی جگہ تھا کسی طور
تو ملا ہے تو کئی ضبط کے پہلو نکل آئے
خاور اس شخص کی اک اور صفت بھی ہے عجیب
جس کو چھو جائے اسی سنگ سے خوشبونکل آئے
جس طرح وادیِ پُر خار میں آہو نکل آئے
ہا تھ میں ہاتھ لئے تیرے خد وخال کے ساتھ
جانے کب آئینہِ جاں سے لبِ جو نکل آئے
دل کی چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہےتنہائی کا چاند
اور اچانک کسی جانب سے اگر تو نکل آئے
برف کے ریزوں کی صورت جو نظر آتے ہیں داغ
یہ تیرے ہجر کےدکھ ہیں جو سر مو نکل آئے
وہ جو بے شاخ شجر تھے ترے رستے کا غبار
تو نظر آیا توہر ایک کے بازو نکل آئے
تو نہیں تھا تو یہ دل اپنی جگہ تھا کسی طور
تو ملا ہے تو کئی ضبط کے پہلو نکل آئے
خاور اس شخص کی اک اور صفت بھی ہے عجیب
جس کو چھو جائے اسی سنگ سے خوشبونکل آئے
Subscribe to:
Comments (Atom)