Friday, November 27, 2009

ایوب خاور

ایوب خاور

جس طرح وادیِ پُر خار میں آہو نکل آئے
ہا تھ میں ہاتھ لئے تیرے خد وخال کے ساتھ
جانے کب آئینہِ جاں سے لبِ جو نکل آئے
دل کی چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہےتنہائی کا چاند
اور اچانک کسی جانب سے اگر تو نکل آئے
برف کے ریزوں کی صورت جو نظر آتے ہیں داغ
یہ تیرے ہجر کےدکھ ہیں جو سر مو نکل آئے
وہ جو بے شاخ شجر تھے ترے رستے کا غبار
تو نظر آیا توہر ایک کے بازو نکل آئے
تو نہیں تھا تو یہ دل اپنی جگہ تھا کسی طور
تو ملا ہے تو کئی ضبط کے پہلو نکل آئے
خاور اس شخص کی اک اور صفت بھی ہے عجیب
جس کو چھو جائے اسی سنگ سے خوشبونکل آئے

No comments:

Post a Comment